وہ موبائل ایپس جن کے ذریعے لوگ اپنے ہمسفر کی مکمل جاسوسی کرسکتے ہیں، ایسا انکشاف کہ ہنگامہ برپاہوگیا

0
375

ہیکرز تو تکنیکی حربے استعمال کرکے لوگوں کے کمپیوٹرز اور موبائل فونز کو ہیک کیا کرتے تھے لیکن اب ایسی ایپلی کیشن آ گئی ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے کوئی بھی شخص کسی کی بھی جاسوسی کر سکتا ہے اور خود گوگل اور ایپل ان جاسوس ایپلی کیشنز کو فروخت کرنے میں ان کے ڈویلپرز کو معاونت فراہم کر رہی ہیں۔

یہ ایپلی کیشنز ایپل ایپ سٹور اور گوگل ایپ سٹور پر موجود ہیں جہاں سے معمولی رقم کے عوض کوئیبھی انہیں خرید سکتا ہے اور لوگوں کے فونز کو ہیک کرکے ان کی کالز سن سکتا ہے، ان کے میسجز پڑھ سکتا ہے، سنیپ چیٹ اور واٹس ایپ جیسی ایپلی کیشنز پر بھی نظر رکھ سکتا ہے، حتیٰ کہ ان کی لوکیشن بھی معلوم کر سکتا ہے۔ان ایپلی کیشنز میں سے ایک کا نام mSpyہے جس کی سالانہ فیس صرف 149.99پاؤنڈ (تقریباً 26ہزار روپے) ہے۔ یہ اور اس جیسی دیگر ایپلی کیشنز ان لوگوں کے فون میں انسٹال کی جاتی ہیں جن کی نگرانی کرنی مقصود ہو۔ فون میں انسٹال ہونے کے بعد ان ایپلی کیشنز کی آئیکنز بھی غائب ہو جاتی ہیں اور اس شخص کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے فون میں کوئی جاسوس ایپلی کیشن انسٹال کی جا چکی ہے۔ ان کے ڈویلپرز دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ والدین کے لیے بنائی گئی ہیں تاکہ وہ اپنے بچوں کی نگرانی کر سکیں تاہم تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ ان ایپلی کیشنز کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہو رہا ہے۔ زیادہ مردوخواتین انہیں اپنے شوہروں یا بیویوں کی جاسوسی کے لیے استعمال کر رہے ہیں جنہیں ان پر کسی اور کے ساتھ ناجائز تعلقات کا شبہ ہوتا ہے۔mSpyاستعمال کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ ”مجھے اپنی محبوبہ پر شبہ تھا۔ میں نے یہ ایپلی کیشن اس کے فون میں انسٹال کی اوراس کے ذریعے اس کو موصول ہونے والی کالز، ایس ایم ایس، واٹس ایپ میسجز اور دیگر تمام طرح کی پیغام رسانی مجھے میرے فون پر موصول ہونے لگی۔ حتیٰ کہ اس ایپ کے ذریعے مجھے اپنی محبوبہ کے وہ واٹس ایپ پیغامات بھی مل گئے جو اس نے اپنے فون سے ڈیلیٹ کر دیئے تھے۔“ایسی ہی ایک اور ایپلی کیشن گوگل پلے سٹور پر موجود ہے جس کا نام ’ریموٹ سپائی‘ (Remote Spy)ہے اور اس کی ماہانہ فیس 20پاؤنڈ (تقریباً 3500روپے) ہے۔

LEAVE A REPLY