پاکستان کرکٹ بورڈ کا سرفراز احمد کو ورلڈ کپ تک قومی ٹیم کا کپتان برقرار رکھنے کا اعلان

لاہور ( این این آئی) پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے ورلڈ کپ 2019ء تک سرفراز احمد کو قومی ٹیم کا کپتان مقرر کرنے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلیکشن کے معاملات میں تسلسل کی پالیسی پر کاربند ہیں، غیر یقینی صورتحال ختم کرنے کے لئے باہمی مشاورت سے سرفراز احمد کو کپتان برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کپتان سرفراز احمد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ احسان مانی نے کہا کہ یہ افسوس کی ہے بات ہے کہ ایک واقعے کے بعد قیاس آرائیاں کی گئیں کہ کپتان

تبدیل ہورہا ہے۔سرفراز احمد کا ریکارڈ بہت اچھا ہے ، سارا بورڈ ان کے ساتھ ہے اور ان کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرفراز کی پاکستان کرکٹ کے لیے خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا،وہ قیادت کی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں جہاں انہوں نے انڈر19، کراچی اور پی آئی اے کی قیادت کی اور ریکارڈ بہت اچھا رہا ہے۔جب سرفراز 2017ء میں کپتان بنے تو ہماری ٹیم ون ڈے کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں 9ویں نمبر پر موجود تھی اور ٹیم کی تنزلی کا خطرہ بھی موجود تھا جس کے نتیجے میں ہمیں ورلڈ کپ کا کوالیفائنگ رانڈ کھیلنا پڑتا لیکن یہ ٹیم کو اٹھا کر لائے جو آج پانچویں نمبر پر موجود ہے۔ پانچویں رینکنگ بھی کم ہے لیکن امید ہے کہ آگے بہتر کارکردگی دکھائیں گے۔احسان مانی نے کہا کہ ہر سیریز کے بعد قیادت کے حوالے سے قیاس آرائیاں شروع ہو جاتی ہیں لیکن میں واضح کردوں کہ سرفراز پاکستان ٹیم کے کپتان ہیں اور آگے بھی رہیں۔سرفراز احمد آسٹریلیا سیریز کے ساتھ ساتھ ورلڈ کپ میں بھی قیادت کریں گے اور ورلڈ کپ بعد ہم ان کی کارکردگی کا جائزہ لے کر فیصلہ کریں گے کہ ہمیں آگے کیا قدم اٹھانا ہے۔ہم سب سرفراز کو بحیثیت کپتان سپورٹ کریں گے اور انشااللہ ہم انہی کی قیادت میں دوبارہ عالمی چمپئن بنیں گے۔ایک سوال کے جواب میں احسان مانی نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف سریز ہمیں جیتنی چاہیے تھی لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں ہم ایک میچ 300 سے زائد رنز بنانے کے باوجود بارش کے سبب ہار گئے۔ ہار جیت کرکٹ کا حصہ ہے لیکن ہمیں ہارنے سے سبق سیکھنا چاہیے۔احسان مانی نے کہا کہ ہر سیریز کے بعد ٹیم میں کپتان سمیت سب کی پرفارمنس دیکھتے ہیں۔ ورلڈ کپ کے بعد سرفراز کی کپتانی کا جائزہ لیں گے۔امید کرتے ہیں کہ گرین شرٹس آئندہ میچز کے بعد ورلڈ کپ میں بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔کسی سینئر کھلاڑی کو کپتان بنانے کے حوالے سے سوال پر چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ ہمیں آگے کا بھی دیکھنا ہے، صرف ورلڈ کپ کا نہیں اور ورلڈ کپ کے بعد کی بھی ٹیم تیار کرتے ہوئے آئندہ چار سے پانچ سال کے لیے ٹیم تیار کر رہی ہے۔ سرفراز احمد کی بیٹنگ صلاحیتوں اور دنیا کی دیگر ٹیموں کے کپتانوں سے موازنے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ سرفراز کو میرٹ کی بنیاد پر کپتان بنایا گیا ہے، ہم ٹی ٹونٹی میں عالمی نمبر ہیں اور کپتان فورا نہیں بنتے بلکہ اس میں وقت لگتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرفراز احمد نے بیٹنگ میں چند اچھی اننگز بھی کھیلی ہیں اور سرفراز کی وکٹ کیپنگ کی بات کی جائے تو میرے خیال میں اس وقت ان سے بہتر وکٹ کیپر شاید دنیا میں کوئی نہیں۔احسان مانی نے ٹیسٹ کرکٹ میں بھی سرفراز کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں مختلف ٹیمیں پر فارمیٹ کے لیے الگ کپتان بناتی ہیں لیکن ہمارے لیے یہ موزوں نہیں اور سرفراز امید ہے کہ جلد ٹیسٹ میں بھی ٹیم کو فتوحات کی راہ پر گامزن کریں گے۔اس موقع پر کپتان سرفراز نے کہا کہ اعتماد کرنے پر پی سی بی کا مشکور ہوں۔ ورلڈ کپ میں کپتانی کرنا کسی بھی کپتان کے لیے اعزاز کی بات ہے، یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میرا شمار عمران خان، وسیم اکرم، مصباح الحق اور شاہد آفریدی جیسے ان عظیم کپتانوں میں ہو گا جو ورلڈ کپ میں قیادت کر چکے ہیں،پاکستان کے لیے اچھے سے اچھا کرنے کی کوشش کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ جو غلطی کی اس کی سزا مل گئی اور سزا پوری بھی ہوگئی، اب آگے دیکھتے ہیں۔ سرفراز نے ایک سوال کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں دو سال سے کپتان ہوں اور اس بارے میں زیادہ نہیں سوچتا کہ میں آگے کپتان رہوں گا یا نہیں۔ نئے چیئرمین پی سی بی نے مجھے شورع سے مکمل اعتماد دیتے ہوئے کہا تھا کہ آپ ہی پاکستان ٹیم کے کپتان ہیں اور میں اس اعتماد پر ان کا اور بورڈ کے دیگر اراکین کا شکر گزار ہوں۔واضح رہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف ڈربن میں کھیلے جانے والے دوسرے میچ میں سرفراز احمد کے منہ سے اینڈل فیلکوایو کے بارے میں نکلنے والے چند جملے نسلی تعصب کے الزام کی زد میں آئے، انہوں نے اپنے رویے کی معافی مانگی جو قبول کر لی گئی، اس کے باوجود آئی سی سی نے انہیں 4 میچز کے لئے معطل کردیا، جس کے باعث پی سی بی نے انہیں واپس بلوانے کا فیصلہ کیا اور کمان شعیب ملک کے سپرد کردی۔