آپ کی کارکردگی کا اعتراف اس وقت ہو گا جب ۔۔۔! وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کے وزراء کو انتباہ کردیا،دوٹوک اعلان

لاہور (آن لائن) وزیراعظم نے کہا کہ آج کا پاکستان بدلا ہوا پاکستان ہے۔ اب عوام میں پزیرائی کا پیمانہ انصاف کی فراہمی اور بہتر طرز حکومت پر منحصر ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اچھی شہرت کے حامل افسران کی حوصلہ افزا ئی اور عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے حوالے سے وزراء کو ان تھک محنت کرنے کی تاکید کی۔ وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر میں بالعموم اور صوبہ پنجاب میں بالخصوص،گورننس مائنڈ سیٹ میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا اور غربت کے خاتمے، عوام کو صحت کی سہولیات، تعلیم اورروزگارکی فراہمی اور کسانوں کی

مدد کے حوالے سے موجودہ حکومت کے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے وزراء کو خصوصی ہدایات کیں۔ وزیراعظم عمران خان نے طرز حکومت میں ریاست مدینہ کی طرز پر رحم اور احساس کو محور بنا کے عوام کی خدمت اور فلاح و بہبود کے لئے تمام کوششیں مرکوز رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ پنجاب کابینہ کے وزراء نے وزیراعظم عمران خان کو متعلقہ وزارتوں کی کارکردگی اور مستقبل کے حوالے سے جامع اور مربوط روڈمیپ کے حوالے سے آگاہ کیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آپ لوگوں کی کارکردگی کا اعتراف اس وقت ہو گا جب عام آدمی کی زندگی میں واضح اور نمایاں بہتری آئے گی۔ اس وقت پاکستان میں status quo اور agents of change کا واضح divide ہے۔ ان دونوں کے درمیان ہر روز مقابلہ جاری ہے۔ status quo کی political class جمہوریت بچانے کے نام پر اپنی چوری چھپانا چاہتی ہے۔ آپ نے بحیثیت agents of change اپنی ذمہ داری کو بھرپور طریقے سے نبھانا ہے۔ 30 سال کے بعد پنجاب میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے۔ پنجاب میں لوگوں کے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔ آپ سب لوگوں کو leading role ادا کرنا ہے اور اس مقابلے میں کامیاب ہوناہے، تب ہی آپ حقیقی لیڈر کے طور پر ابھریں گے۔وزیراعظم نے اشیاء کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے وزرا ء کو ہدایت کی کہ قیمتوں میں اضافے کی وجوہات کی نشاندہی کر کے ذمہ داران کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے۔وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کی صوبائی کابینہ کے وزراء کو ہدایت کی کہ ان کی وزارتوں کا مرکز ی ہدف عام آدمی کو فائدہ پہنچانا اور ان کا معیار زندگی بہتر کرنا ہونا چاہئے۔ ہم نے اس طبقے کا احساس کرنا ہے جس کا آج تک کسی نے نہیں سوچا۔ جب ہم میں یہ احساس ہوگا تو ایسے معاشرے کی شروعات ہو گی جو ریاست مدینہ کی طرز پر حقیقی معنوں میں اقوام عالم میں ایک مستحکم فلاحی ریاست کے طور پر ابھرے گا۔