راجپال یادیو کو جیل کی سزا

بولی وڈ کے معروف کامیڈین راجپال یادیو کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی ایک عدالت نے قرض کی ادائگی کے لیے چیک باؤنس ہونے کے کیس میں 63 ماہ کے لیے جیل بھیج دیا۔

اسی کیس میں راجپال یادیو کو رواں برس اپریل میں بھی نئی دہلی کی ہائی کورٹ نے 6 ماہ جیل قید اور 11 کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔تاہم بعد ازاں اسی عدالت نے اداکار کی ضمانت منظور کرلی تھی۔تاہم اب ہائی کورٹ نے انہیں قرض کی ادائگی کے لیے دیے گئے چیک کے باؤنس ہونے اور قرضدار کو قرض کی ادائگی نہ کرنے کے جرم میں راجپال یادیو کو 3 مہینے کے لیے جیل بھیج دیا۔عدالت نے اداکار کو فوری طور پر ہراست میں لے کر جیل منتقل کرنے کا حکم دیا۔اسی کیس میں اداکار کی اہلیہ بھی نامزد تھیں، تاہم عدالت نے ان کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں دیا۔راجپال یادیو پر الزام تھا کہ انہوں نے 2010 میں اپنی فلم ’اتا، پتہ، لاپتہ‘ کو بنانے کے لیے ایک شخص سے 5 کروڑ روپے قرض لیا تھا۔تاہم بعد ازاں قرض کی ادائگی کے لیے اداکار نے جو بینک چیک فراہم کیا، وہ باؤنس ہوگیا اور پھر قرضدار نے اداکار کو متعدد بار قرض ادا کرنے کا کہا، تاہم اداکار ٹالتے رہے۔خیال رہے کہ راجپال یادیو کو اسی کیس میں 5 سال قبل 2013 میں بھی سزا سنائی جا چکی ہے اور انہوں نے 4 دن جیل میں بھی گزارے تھے۔اداکار اور ان کی اہلیہ رادھا یادیو نے جس فلم بنانے کے لیے کاروباری شخص سے 2010 میں قرضہ لیا تھا، اسے ’اتا، پتہ، لاپتہ‘ کے نام سے 2012 میں ریلیز کیا گیا تھا۔
کامیڈی فلم کی ہدایات بھی کود راجپال یادیو نے دی تھیں، جب کہ ان کی اہلیہ نے اسے پروڈیوس کیا تھا۔فلم کی کاسٹ میں راجپال یادیو سمیت چوٹی کے کامیڈین اداکار شامل تھے، جن میں وجے راز، اشوتوش رانا، اسرانی، وکرم گوکھلے، رزاق خان، منوج جوشی، مشتاق خان اور گووند نام دیو سمیت دیگر شامل تھے۔فلم نے باکس آفس پر کوئی خاص کمائی نہیں کی تھی۔