سچ بولنے کا رسک اب کوئی نہیں لیتا

0
511

یہ سچ کا زمانہ نہیں ‘ ہر جگہ جھوٹ ہی کی فراوانی ہے ۔ سچ بول کر نہ تو سکول سے چھٹی ملتی ہے اور نہ ہی ممی کی مار سے بچاؤ ہوتا ہے ۔ اس لیے پاکستانی معاشرے کا ہر فرد کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی وجہ سے جھوٹ ضرور بولتا ہے اور سچ سے اتنا دور بھاگتا ہے کہ اس کے نتائج نہ بھگتنے پڑیں ۔اپنے حکمرانوں کو ہی دیکھ لیں ۔پہلے تین ادوار پیپلز پارٹی کی حکومت تھی ۔پیپلز پارٹی نے روٹی کپڑا مکان کا وعدہ کرکے عوام سے ووٹ لیے اور خوب لوٹ مار کرکے چلتی بنی ۔ عوام روٹی ‘کپڑا اور مکان کو ترستے ہی رہ گئے ۔ اب بھی جب الیکشن قریب آتے ہیں تو پیپلز پارٹی کے امیدوار روٹی کپڑا مکان کاہی نعرہ لگا کر عوام کو ورغلانہ چاہتے ہیں ۔ اگر وہ سچ کہیں کہ ہم اپنا پیٹ بھرنے کے لیے اقتدار پر قبضہ چاہتے ہیں تو کوئی ان کو ووٹ نہیں دے گا بلکہ جہاں جہاں بھی اس پارٹی کے امیدوار ہوں گے انہیں عوام سے بہت مار پڑے گی ۔ پیپلز پارٹی کے بعد مسلم لیگ ن کی حکومت آئی ۔ نواز شریف اور شہباز شریف نے الیکشن سے پہلے جلسوں میں عوام سے وعدہ کیا کہ اگر ہمیں اقتدار مل گیا تو ہم تین ماہ کے اندر بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرکے عوام کو سکھ کاسانس دلائیں گے ۔عوام نے ووٹ دے کر انہیں حکومتی ایوانوں تک جیسے ہی پہنچایا تو نواز شریف اپنے وعدے سے مکر گئے اور کہنے لگے ہم تین ماہ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم نہیں کرسکتے ۔ پانچ سال میں اتنی بجلی پیدا کریں گے کہ ملک بھر سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوجائے گا ۔ حسن اتفاق سے پانچ سالوں میں بھی لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ نہ ہوسکا ۔اگر نواز شریف اقتدار ملنے سے پہلے سچ بتادیتے کہ ہم اس قابل نہیں ہیں کہ بجلی کی کمی کو اقتدار ملتے ہی دور کرسکیں تو نہ انہیں اتنے ووٹ ملتے بلکہ مار بھی پڑتی کہ تم پھر عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے کیوں آئے ہو۔

اب تحریک انصاف کی حکومت ہے ‘عمران خان نے الیکشن سے پہلے عوام سے ووٹ حاصل کرنے کے لیے اپنے 100 روزہ پروگرام کا اعلان کیا تھا جس میں ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ مکانات کی تعمیر ‘ نمایاں تھی ۔اب انہیں وزیراعظم کا عہدہ سنبھالے تین مہینے یعنی 90 دن ہوچلے ہیں۔ دور دور تک 100 روزہ پلان کے وعدے پورے ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ۔ اس پر حکومتی ترجمان کہتے ہیں یہ تو سیاسی وعدہ تھا یعنی عوام سے ووٹ لینے کے لیے جھوٹ بولا گیا ۔اگر عمران خان سچ کہتا کہ میں نہ لوگوں کو نوکریاں دے سکتا ہوں اور نہ ہی ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرسکتا ہوں تو کون اسے ووٹ دیتا ۔ اس طرح پیپلز پارٹی ‘ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف جنہوں نے جھوٹ کا سہارا لے کر بار بار اقتدار پر قبضہ کیااگر سچ بولتے تو انہیں کوئی منہ لگاتا ۔

آگے چلتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ گھرگھر دودھ فروخت کرنے والا گوالا جھوٹ بول کر پانی اور کیمیکل ملا دودھ ہمیں دے جاتا ہے ‘ پولیس والے جھوٹ بول کر عوام سے رشوت وصول کرتے ہیں ‘ ڈاکٹر سرکاری ہسپتالوں میں بیٹھ کر جھوٹ کا سہارا لے کر مریضوں کو اپنے پرائیویٹ کلینک آنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ روزانہ سکول جانے اور وہاں جاکر ٹیچر کی ڈانٹ کھانے کو دل نہیں کرتا ‘ کبھی کبھی چھٹی مارنے کو دل بھی چاہتا ۔ سچ بول کر چھٹی نہیں مل سکتی ۔ بلکہ مار پڑتی ہے ۔ اس حوالے سے ایک واقعہ یہاں بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔

ایک بچہ اپنے دادا کے ساتھ گھر سے باہر بیٹھا دھوپ سینک رہا تھا ۔ دور سے بچے کی ٹیچر آتی دکھائی دی تو دادا نے اپنے پوتے کو کہا تم چھپ جاؤتمہاری ٹیچر ادھر ہی آرہی ہے اگر اس نے دیکھ لیاتو ڈانٹ پڑے گی ۔ بچے نے راز دارانہ انداز میں دادا سے کہا دادا جانا جلدی سے آپ چھپ جائیں ‘میں آپ کے مرنے کی کتنی بار چھٹی کرچکا ہوں اگر ٹیچر نے آپ کو زندہ دیکھ لو تو وہ بہت ناراض ہوگی ۔

صرف بچے سچ سے دور نہیں بھاگتے بلکہ ہمارے بڑے بھی اس میدان میں کسی سے کم نہیں ۔ گھر کے دروازے پر دستک ہوئی تو والد نے کھڑکی دراڑ میں سے دیکھا کہ ادھا ر مانگنے والا دروازے پر کھڑا ہے اور کہہ رہا ہے اپنے ابو کو باہر بھیجو۔ابو فورا ہونٹوں پر انگلی رکھ کر بچے کوکہیں گے باہر جاؤاور جو شخص دروازے پر کھڑا ہے اسے بتادو کہ میرے ابو ابھی دفتر سے ہی گھرنہیں آئے ۔

اسی طرح ایک صاحب اپنی فرینڈ کے ساتھ کسی ہوٹل میں بیٹھے گپیں ہانک رہے تھے ‘ صاحب نے بیگم کو فون کرکے بتایا آج دفتر میں کام زیادہ ہے اس لیے تم کھانا کھاکر سو جانامیں دیر سے آؤں گا۔ بیوی جو اسی ہوٹل میں ان کے پچھلی میز پر بچوں سمیت بیٹھی تھی ‘ اس نے کہا بچے پوچھ رہے ہیں کہ اس وقت آپ کے ساتھ ہماری کونسی پھوپھو بیٹھی ہوئی ہے ۔ چوری پکڑے جانے پر وہ صاحب بہت شرمندہ ہوئے اگر وہ سچ بتا دیتے کہ میرے ساتھ میری گرل فرینڈ ہے میں رات کا کھانا ہوٹل سے کھاکر ہی گھر واپس آؤں تو بیوی کے ہاتھوں کتنی مار پڑتی اور پورے خاندان میں الگ بدنام ہوتے۔

سرکاری زمینوں پر قبضہ کرکے ملی بھگت کے ذریعے ہاؤسنگ سوسائٹی بنا لی جاتی پھر جھوٹے اشتہارات اخبارات میں شائع کرکے لوگوں سے پلاٹوں کی خرید کے عوض خود پیسے ہڑپ کیے جاتے ہیں ۔جب سارے پلاٹ بک جاتے ہیں توایل ڈی اے کی جانب سے اخبارات میں اشتہار شائع ہوجاتا ہے کہ وہ ہاؤسنگ سوسائٹی ایل ڈی اے کی منظور شدہ نہیں تھی ۔اس وقت تک اربوں روپے ڈکار لیے جاتے ہیں ۔اگر سچ بتایا جائے کہ ہم سرکاری زمین پر قبضہ کرکے پلاٹ فروخت کررہے ہیں تو پلاٹ خریدنے کا رسک کون لیتا بلکہ لوگ سچ کہنے پر اسے خوب مارتے ۔

دکاندار جھوٹ کر پھل اور سبزیوں کی منہ مانگی قیمت وصول کرتے ہیں ۔کیا سچ بول کر مہنگی سبزی اور پھل فروخت ہوسکتا ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ جھوٹ کا زمانہ ہے کہ بیوی اپنے شوہر کی کمائی سے ہی نیا سوٹ سلاتی ہے اور نام اپنے میکے کا لگادیتی ہے ۔تاکہ میکے کا بھرم قائم رہے ۔ رنگے ہاتھوں پکڑا جانے والا چور جھوٹی قسمیں کھاکر کہتا ہے میں نے چوری نہیں کی مجھ پر جھوٹا الزام لگایاجارہا ہے ۔ ہر ماں جو اپنے بچے کو دل و جان سے چاہتی ہے اگر وہ سکول میں چوری کرتا ہوا پکڑا جائے تو اس کی ماں تسلیم نہیں کرتی کہ اس کابیٹا چوری بھی کرسکتا ہے ۔ وکیل جھوٹ بول کر قاتل کی پارسائی کی عدالت میں قسمیں کھاتے ہیں اگر وہ سچ بولتے ہوئے عدالت کے روبر یہ کہہ دیں کہ میرے موکل نے قتل تو کیا ہے لیکن اس کو معاف کردیاجائے ۔کیا قاتل کو سچ بول کر معافی مل سکتی ہے ۔

آج کل جھوٹوں کے سردار وفاقی حکومت میں وزیراطلاعات و نشریات کی شکل میں پائے جاتے ہیں جبکہ ایسے ہی کئی جھوٹے جو غلط کو صحیح اور جھوٹ کو سچ بنانے کا فن جانتے ہیں وہ لاہور ‘کراچی اور پشاور کی صوبائی حکومتوں میں بھی موجود ہیں ۔ پرانے زمانے میں کہاجاتا تھا کہ لوگ جھوٹ بولنے والے کا منہ کالا ہوجاتاہے لیکن آج کل تو سب گورے چٹے دکھائی دیتے ہیں ۔ ہمارا وزیر اعظم خود کہتا ہے کہ یو ٹرن لینا دانش مندی کی علامت ہے گویا جھوٹ بول کر یو ٹرن لینا سچ کے راستے سے فرار کا میاب طریقہ ہے ۔آجکل تو اس قدر ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں کہ کوئی پہچان ہی نہیں سکتا ۔

یہ تمام واقعات اس بات کے شاہدہیں کہ سچ کا زمانہ ختم ہوچکا اب جھوٹ ہی ہر جگہ دکھائی دیتا ہے اگر کوئی اس معاشرے میں سچ بولنے کی ہمت کرتا ہے تواس کو اتنی مار پڑتی ہے کہ دوبارہ وہ سچ بولنے کی جرات نہیں کرتا ۔

LEAVE A REPLY