شجاعت و بہادری ایک ایمانی وصف

بسم اﷲ الرحمان الرحیم

باطل اور دُشمن کے مقابلے میں شجاعت و بہادری اور جرأت و قوت کا مظاہرہ کرنا بندۂ مؤمن کی شان ہی نہیں بلکہ اُس کا جزوِ ایمان بھی ہے۔ اسلام دُشمن قوتوں کے سامنے سینہ سپر ہونا اور کفر و باطل کی صفوں کو شکست و ہزہمت سے دوچار کرنابندۂ مؤمن کے ایمان کا وصف ہے۔آپ اسلام کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں اور مسلمانوں کی جہادی زندگی کا مطالعہ کریں تو آپ کو ان کی زندگی کا یہ ایمانی وصف بہت نمایاں نظر آئے گاکہ وہ کفر کے مقابلے میں جان سے تو گئے لیکن راستے سے ہٹے نہیں، کٹ تو گئے مگرباطل کے سامنے جھکے نہیں ،سولیوں پر چڑھ تو گئے مگر اسلام پر کوئی آنچ نہیں آنے دی۔

چنانچہ صحیحین کی روایت ہے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ خوب صورت، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات مدینہ والے (کسی آواز کو سن کر) گھبراگئے، تو لوگ اس آواز کی طرف چل پڑے، انہیں سامنے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم واپس آتے ہوئے ملے، حضور صلی اﷲ علیہ وسلم ان سے پہلے آواز کی طرف چلے گئے تھے۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ عنہ کے گھوڑے پر ننگی پشت پر سوار تھے، آپؐ کی گردن میں تلوار لٹک رہی تھی، آپؐ فرمارہے تھے کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں اور فرمایا کہ ہم نے اس گھوڑے کو سمندر (کی طرح رواں دواں) پایا، حالاں کہ مشہور یہ تھا کہ یہ گھوڑا سست اور کم زور ہے (حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی برکت سے تیز ہوگیا ہے) مسلم میں حضرت انس رضی اﷲ عنہ کی روایت میں اس طرح ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ میں گھبراہٹ کی بات پیش آئی ، حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ عنہ سے ’’مندوب‘‘ نامی گھوڑا مانگ کر لیا اور اس پر سوار ہوکر گئے اور واپس آکر فرمایا کہ ہمیں گھبراہٹ کی کوئی چیز نظر نہیں آئی اور ہم نے تو اس گھوڑے کو سمندر کی طرح (رواں دواں) پایا ہے۔ اور جب لڑائی زوروں پر آتی تو ہم لوگ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو آگے کرکے خود کو بچایا کرتے۔

مسند احمد و سنن بیہقی کی روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن مشرکین کے حملہ سے ہم نے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی اوٹ لے کر اپنا بچاؤ کیا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ نڈر تھے، بڑی بے جگری سے لڑتے تھے۔

مسلم و نسائی کی روایت (جس کی تخریج بخاری نے بھی کی ہے) میں ہے حضرت ابو اسحاق رحمۃ اﷲ علیہ کہتے ہیں کہ یہ بات میں نے خود سنی ہے کہ قبیلہ قیس کے آدمی نے حضرت براء بن عازب رضی اﷲ عنہ سے پوچھا کہ کیا غزوۂ حنین کے دن آپ لوگ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے؟ حضرت براء رضی اﷲ عنہ نے فرمایا جی ہاں! لیکن حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نہیں بھاگے تھے۔ قبیلہ ہوازن والے بڑے تیر انداز تھے ، جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو انہیں شکست ہوگئی تو ہم لوگ مالِ غنیمت سمیٹنے پر ٹوٹ پڑے، اس وقت انہوں نے ہم پر تیروں کی بوچھاڑ کردی، میں نے دیکھا کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار ہیں اور اس کی لگام حضرت ابو سفیان رضی اﷲ عنہ پکڑے ہوئے ہیں اور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم فرمارہے ہیں کہ میں نبی بر حق ہوں اور یہ بات جھوٹ نہیں ہے۔ بخاری کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ پھر حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے خچر سے نیچے تشریف لے آئے۔

مسند احمد کی روایت ہے کہ حضرت براء بن عازب رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر حضور صلی اﷲ علیہ (خچر سے)نیچے تشریف لے آئے اور اﷲ تعالیٰ سے مدد طلب فرمائی اور یوں فرمایا میں نبی بر حق ہوں اور یہ بات جھوٹ نہیں ہے، میں عبد المطلب کا بیٹا (پوتا) ہوں ، اے اﷲ! اپنی مدد اور نصرت (ہم پر) نازل فرما! ۔ اور جب لڑائی زوروں پر آجاتی تو ہم لوگ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی اوٹ میں اپنا بچاؤ کیا کرتے تھے۔ اور اس وقت جو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے شانہ بہ شانہ لڑتا وہ سب سے زیادہ بہادر شمار ہوتا۔

مسند بزار کی روایت ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ وغیرہ حضرات نے جنگ بدر کے موقع پر جب حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے چھپر بنایا تو آپس میں مشورہ کیا کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ کون رہے گا؟ تاکہ کوئی مشرک آپ صلی اﷲ علیہ و سلم تک نہ پہنچ سکے!۔ اﷲ کی قسم! اس وقت (دُشمن کا خوف اس قدر سخت تھا کہ ) کوئی بھی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کی ہمت نہ کرسکا، بس ایک حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ ہی ایسے تھے جو تلوار سونت کر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے تھے۔جب کوئی بھی حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف آنے کا ارادہ کرتا تو حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ فوراً لپک کر اس کی طرف جاتے ۔

ابن عساکر کی روایت ہے حضرت علی المرتضیٰ کرم اﷲ وجہہ فرماتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق ہرایک شخص نے چھپ کر ہجرت کی ، صرف حضرت عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ ایسے ہیں جنہوں نے علیٰ الاعلان ہجرت کی، چنانچہ جب انہوں نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو اپنی تلوار گلے میں لٹکائی اور اپنی کمان کندھے پر ڈالی اور کچھ تیر (ترکش سے ) نکال کر اپنے ہاتھ میں پکڑے اور بیت اﷲ کے پاس آئے، وہاں صحن میں قریش کے کچھ سردار بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے بیت اﷲ کے سات چکر لگائے، پھر مقام ابراہیم کے پاس جاکر دورکعت نماز پڑھی، پھر مشرکین کی ایک ایک ٹولی کے پاس آئے اور فرمایا یہ تمام چہرے بدشکل ہوجائیں! جو آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کی ماں اس سے ہاتھ دھو بیٹھے اور اس کی اولاد یتیم ہوجائے اور اس کی بیوی بیوہ ہوجائے وہ مجھ سے اس وادی کی پرلی جانب آکر ملے۔ (اس کے بعد حضرت عمر رضی اﷲ عنہ وہاں سے چل پڑے) لیکن کوئی آدمی بھی آپ کے پیچھے نہ جاسکا۔

اسلام کی شان دار لہلہاتی تاریخ عہد نبوی ؐ و عہد صحابہؓ سے لے کر آج تک اور ان شاء اﷲ! قیامت کی صبح تک اس طرح کے عظیم شہسواروں اور نام وَر سپوتوں کو جنتی رہے گی جو اشاعت اسلام اور اعلائے کلمۃ اﷲ کی خاطر دنیا کی ہر طاقت کے مقابلے میں جان ہتھیلی پر رکھ کر اسی طرح کی شجاعت و بہادری کا مظاہرہ کرتے رہیں گے اور اسلام دشمن کفریہ طاقتوں کو تہہ تیغ کرکے ان کو شکست و ہزیمت سے دوچار کرتے رہیں گے۔اس لئے کہ اﷲ تعالیٰ کا خوف اور اس کا ڈر جب بندۂ مؤمن کے دل میں پیوست ہوجاتا ہے اور اس کی ایمانی کیفیت بلند ترین سطح پرپہنچ جاتی ہے تو پھر دنیاوی طاقتیں و قوتیں اس کی نگاہِ ایمانی کے سامنے پرکاہ کی بھی حیثیت نہیں رکھتیں۔فانی دنیا کی بڑی سے بڑی اور سخت سے سخت سپر طاقتوں کے سامنے وہ ہمیشہ سینہ سپر نظر آتا ہے۔ دنیاوی جاہ و جلال اور طاقت و اقتدار کی ظاہری ٹیپ ٹاپ اس کی نگاہوں کو کبھی خیرہ نہیں کرسکتی ، اس لئے کہ اس کے سر پر ایمان کا تاج ہوتا ہے، ایسا تاج جس کے اندر اس کا سفید جوڑا(کفن )تیار پڑا ہوتا ہے، اور اس کے ہاتھ میں تلوار ہوتی ہے ، ایسی تلوارجس کے سائے تلے جنت اس کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔