خراٹوں کا علاج دریافت ہوگیا،بہت آسان،ابھی جائیں

خراٹوں کا علاج دریافت ہوگیا،بہت آسان،ابھی جائیں دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس

خراٹے لینے کی بیماری بہت عام ہے تاہم اس کے شکار زیادہ تر افراد خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں۔ انہیں نہیں پتہ ہوتا ہے کہ وہ خراٹوں کا علاج کیسے کریں۔اس سلسلے میںجرمنی کے ایک معروف طبی جریدے نے رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق دانتوں کے ڈاکٹر مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔دانتوں کا ڈاکٹر خراٹوں کا علاج مریض کے نچلے جبڑے کے محراب میں کھپچیوں کی مدد سے ایک آلہ نصب کر کے کرتا ہے۔ تاہم یہ طریقہ علاج ہمیشہ کارآمد ثابت نہیں ہوتا، خاص طور سے ایسے مریضوں کا یہ علاج ممکن نہیں ہوتا جن کے منہ میں دانت کافی تعداد میں باقی نہیں رہے ہوتے کیونکہ یہ آلہ اس وقت نصب کیا جا سکتا ہے جب مریض کے منہ کے کسی ایک جبڑے میں کم از کم آٹھ دانت مستقل ہوں جن میں کراو¿ن دانت یا نوکیلے دانتوں کا ہونا اہم ہے۔مریض سونے سے پہلے اس آلے کو اوپر اور نیچے کے جبڑے کے درمیان لگا لیتا ہے۔ دوران نیند یہ آلہ نیچے کے جبڑے اور زبان کو اوپر کے جبڑے کی نسبت باہر کی طرف دھکیل کر رکھتا ہے او اس عمل کا مقصد مریض کی سانس کی نالی کے اوپری حصے کے لیے حلق تک کھلا رستہ فراہم کیا جائے تاکہ مریض کھل کر سانس لے سکے۔ اس طرح مریض خراٹے نہیں لیتا۔