صرف سوچ سے ہی کمپیوٹر کھولنے کا کامیاب تجربہ

ماہرین نے ذہنی سوچ سے کمپیوٹر کھولنے اورلاگ آن کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے جسے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا انقلاب قرار دیا جارہا ہے۔

اسپین میں باسک سینٹر برائے دماغ ، زبان اور ذہنی صلاحیت کے ماہر بلیئر آرمسٹرونگ کی جانب سے تیار کیا گیا یہ سسٹم کامیابی سے کام کرتا ہے جس کے بعد جلد ہی پاس ورڈ اور فنگر پرنٹس سے نجات کے ساتھ کمپیوٹروں تک رسائی تیز ہوجائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف افراد مختلف باتوں کو اپنے منفرد انداز میں سوچتے ہیں اس لیے تجربے میں 45 رضاکاروں کو ذہن میں 75 الفاظ دُہرانے کا کہا گیا جن میں ایف بی آئی اور ڈی وی ڈی جیسے الفاظ بھی شامل تھے ان الفاظ کی ادائیگی سے دماغ میں جو سرگرمی ہوتی ہے اسے نوٹ کیا گیا کیونکہ الفاظ سوچتے ہوئے ان کی کھوپڑی سے 2 الیکٹروڈز چپکے ہوئے تھے جو دماغی سرکٹ میں ہونے والی سرگرمی کو نوٹ کررہے تھے اس طرح ہر شخص کے ذہن میں لفظ سوچنے کا ایک نمونہ بنا جسے نوٹ کرلیا گیا اور ایک کمپیوٹر پروگرام کے ذریعے ہر شخص کے انفرادی ’’ برین پرنٹ‘‘ کو تلاش کیا گیا جو کسی شخص کے مخصوص فنگرپرنٹس یا آواز کی طرح تھا۔ جب رضاکاروں کو کمپیوٹر سسٹم پر مخصوص الفاظ سوچنے کا کہا گیا تو 94 فیصد افراد نے لفظ کو ذہن میں پکار کر کمپیوٹر کو کامیابی سے لاگ آن کرلیا۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ ٹیکنالوجی مروجہ طریقوں مثلاً ایپل ٹچ کی طرح قابلِ بھروسہ نہیں لیکن مستقبل میں اسے مزید بہتر بناکر حساس نیٹ ورکس اور فوجی تنصیبات کے لیے استعمال کرنا ممکن ہوگا۔