وہ ماڈل جسے اغوا کرکے 8 لوگوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، بالآخر اپنی تڑپا دینے والی کہانی سنادی

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں اغواءکے بعد جنسی زیادتی کے بدترین تجربے سے گزرنے والی ماڈل فریڈا فیریل نے اپنی کہانی پر مبنی فلم بنا ڈالی ہے، جس کا نام سیلنگ ازابیل (Selling Isobel)ہے۔ میل آن لائن کے مطابق 38سالہ سویڈش نژاد ماڈل و اداکارہ فریڈافیریل اب لاس اینجلس میں رہتی ہے جس کے ساتھ یہ واقعہ 16سال قبل لندن میں پیش آیا۔ ایک روز وہ آکسفورڈ سٹریٹ میں پیدل جا رہی تھی کہ اسے ایک آدمی ملا، جس نے اسے ایک اشتہار میں ماڈلنگ کی پیشکش کی اور اپنا بزنس کارڈ اسے دیا اور کہا کہ اس جگہ پر آ کر آڈیشن دے دینا۔

فریڈا اگلے روز ہارلے سٹریٹ میں واقع اس عمارت میں گئی اور آڈیشن دیا۔ آڈیشن کے بعد اسے بتایا گیا کہ اسے اشتہار میں کام کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے اور اسے اس کا7ہزار پاﺅنڈ معاوضہ دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس شخص نے فریڈا کو اگلے روز پھر آنے کا کہہ کر رخصت کر دیا، لیکن اگلے روز جب وہ اس دفتر میں پہنچی تو بدقسمتی اس کا انتظار کر رہی تھی جس کا دفتر میں داخل ہوتے ہی اسے احساس ہو گیا۔

رپورٹ کے مطابق جونہی فریڈا دفتر میں داخل ہوئی اندر موجود کچھ مردوں نے اسے پکڑ لیا۔ انہوں نے اسے چاقو کی نوک پر دودھ کا ایک گلاس پلایا جس میں کوئی نشہ آور دوا ملائی ہوئی تھی۔ پھر نشے کی حالت میں وہ اسے کسی اور اپارٹمنٹ میں لے گئے اور وہاں 3دن تک اسے مغوی رکھ کرجنسی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔ تیسرے روز اغواءکار باہر سے دروازہ بند کرنا بھول گئے اور فریڈا کو وہاں سے فرار ہونے کا موقع مل گیا۔فریڈا کے مطابق ان دنوں میں 8سے زیادہ مردوں نے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

فریڈا نے گزشتہ روز ہفنگٹن پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ”جب میں اس اپارٹمنٹ سے فرار ہو کر پولیس کے پاس گئی تو انہوں نے میری بات ہی نہیں سنی۔ وہ یہ یقین کرنے کو ہی تیار نہیں تھے کہ ہارلے سٹریٹ جیسے پوش علاقے میں ایسا جرم ہو سکتا ہے۔ میںدوستوں کے ساتھ لندن میں بہت گھومتی پھرتی تھی لیکن اس واقعے پر میں اس قدر خوفزدہ ہوئی کہ برطانیہ چھوڑ کر امریکہ منتقل ہو گئی۔“ اس نے کہا کہ ”جو کچھ میرے ساتھ پیش آیا وہ کسی بھی لڑکی کے ساتھ پیش آ سکتا ہے۔یہاں ہر لڑکی برائے فروخت ہے۔ ہم صرف ایک جسم ہیں۔ ان دنوں میں ایک عام سی لڑکی تھی، بالکل اپنی کلاس کی دیگر لڑکیوں کی طرح۔ میرے ساتھ یہ واقعہ اس لیے پیش آیا کہ میں اس رات پیدل گھر واپس جا رہی تھی اور یہ کسی بھی عام لڑکی کے ساتھ ہو سکتا ہے۔“