سوچ کی طاقت

ہمیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ ہماری منفی سوچ کے ہمارے اوپر کتنے منفی اثرات ہوتے ہیں اور مُثبت خیالات سے کتنی خیر وجود میں آرہی ہے اور ارد گرد کے ماحول پر اچھے اثرات ظاہر ہوتے ہیں ۔

مضبوط اعصاب کے لوگ وہ ہوتے جن کا زہن اور جزبات اُن کے قابو میں ہوں جس کی وجہ سے اُن کا عمل درُست سمت میں ہوتا ہے
وہ ایک آنے والے بُرے خیال کے ہاتھوں مغلوب ہونے کے بجاۓ اُس کی سمت موڑ دیتے ہیں اور اُس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے عمل کو چھوڑ دیتے ہیں ۔

انسان جیسا سوچتا ہے ویسے ہی حالات اور لوگ اُس کی زندگی میں سامنے آنے لگتے ہیں ۔

کہتے ہیں کہ
Thought becomes Things
خیال ہی حقیقت بنتا ہے

خیالات کا دُرست رکھنا ماحول اور نفسیاتی وو جسمانی صحت برقرار رکھتا ہے ۔

یہ حقیقت ہے کہ

میں خیال ہوں کسی اور کا
مُجھے سوچتا کوئ اور ہے

اس کے بعد جو ہمیں اختیار ملا تو بات یوں بنی

میں اپنا ہی خیال ہوں اور اپنا ہی وجود ہوں
صرف ایک کے ہی سامنے سر بسجود ہوں

مثبت خیالات سے مثبت امکانات پیدا ہوتے ہیں اور منفی خیالات سے منفی رُجہانات جنم لیتے ہیں ۔

یہ باتیں بظاہر کتابی لگتی ہیں مگر غور کرنے پر اور تجربات سے ان کے عملی ہونے کا ادراک ہوتا چلا جاتا ہے اور انسان اس کی افادیت میں کھوتا چلا جاتا ہے۔

میرا زاتی تجربہ ہے کہ کسی کے لیے مسلسل خیرخواہی کی سوچ ایک نہ ایک دن اُس کو بدل دیتی ہے ۔ آپ کے دل کی تڑپ بنا لب ہلاۓ دُعا کا روپ دھار لیتی ہے۔