کچھ عورتوں کی آنکھوں میں بہت رنگینیاں ہوتی ہیں،نئی سائنسی تحقیق

ایک عام انسان کئی رنگوں میں تمیز کرسکتا ہے اس کے سامنے اکاشی، تیز سرخ، ارغوانی، جامنی، زرد اور سنہری رنگ رکھ دئیے جائیں تو وہ کسی بھی رنگ پر ہاتھ رکھ کر اپنی پسند کے حوالے سے کئی دلائل سے سکے گا۔

رنگوں کی تمیز کرنے کے لئے قدرت نے انسانی آنکھ میں ایسے سیلز رکھے ہیں جنہیں ”کونز“ کہا جاتا ہے۔ جیسے ہی انسانی آنکھ کی رنگ کو دیکھتی ہے فوراً ہی دماغ سے سگنلز آجاتے ہیں اور رنگ کی تشخیص ہوجاتی ہے لیکن رنگوں کو جذب کرنے اور ان میں تمیز کرنے کی صلاحیت عورتوں میں مردوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ اس ضمن میں نیوکاسٹل یونیورسٹی کے گیریل جورلون اور ان کے ساتھیوں نے مختلف لوگوں کے کشف یعنی خواب نظر پر سٹڈی کی تو معلوم ہوا کہ بہت سے لوگ سپر ویژن یعنی بہت اعلیٰ نوعیت کے کشف کے حامل ہوتے ہیں اور عورتوں میں یہ ویژن زیادہ ہوتا ہےلیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس طرح کی خواتین کم ہوتی ہیں جو ڈھیر سارے رنگوں کو پہچان سکیں۔ سچ تو یہ ہے کہ کشف یعنی تصور کرنا مشکل ہے لیکن رنگوں کی تمیز کرنا آسان ہے۔ انسانی آنکھ کے کونز ایک ایک کے سینکڑوں شیڈ واضح کرتے ہیں۔ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ لوگ عام اندازے سے بھی زیادہ دیکھتے ہیں۔ کسی آنکھ کے چار کونز کے کروڑوں شیڈ بیان کرسکتے ہیں۔ یہاں اس بات پر بھی بہت غور کیا گیا کہ کلر بلائنڈ لوگوں کے کیا مسائل ہیں اور رنگوں میں تمیز نہ کرنے کی بیماری کے محرکات کیا ہیں۔ ایسے لوگ سبز، سرخ میں تمیز نہیں کرپاتے۔ اس ضمن میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کونز آنکھوں میں ایفیکٹ ہونے والی روشنی کو گڈمڈ کرجاتے ہیں اور اس طرح دونوں رنگوں میں تمیز نہیں ہوپاتی۔ ایسے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سرخ اور سبز رنگ دکھاتے رہنا چاہیے۔ کلر بلائنڈ لوگوں کے دو کونز تو نارمل کام کرتے ہیں جبکہ دو کونز اسی خوابی کا سبب بنتے ہیں۔ اس پر ایک تجربہ کیا گیا، تجربے میں ماں بیٹی پر تحقیقات سے یہ نتیجہ سامنے آیا کہ تین کونز ایک سے ہیں جبکہ چوتھا کون مختلف تھا جو کلر بلائنڈ کی وجہ بنا۔