با زا ر ی اچا ر سو چ سمجھ کر کھا ئیں ۔۔کو ن سا کیمیکل استعما ل کیا جا تا ہے

ملاوٹ مافیا پھر سے نا کام ہو گئی، لاکھوں افراد ناقص اچار کھانے سے بچ گئے۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے کاروائی کرتے ہوئے 60 ہزار کلو ناقص اچار برآمد کر لیا۔فوڈ اتھارٹی کے مطابق جازم اچار پروڈکشن یونٹ سیل کر گیا اورناقص اچار ڈمپنگ سائٹ پر لا کر تلف کر دیا گیا ہے۔
ڈی فوڈ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ فیکٹری پربت پنڈ، کالا خطائی روڈ کے ویران علاقے میں قائم تھی۔
کیپٹن (ر) محمد عثمان کے نے بتایا کہ اچار کی تیاری میں گلے سڑے، پھپھوندی لگے پھل اور سبزیاں استعمال کیے جا رہے تھے۔
اس کے علاوہ اچار کی جلد تیاری کے لیے مضر صحت کیمیکلز کا استعمال کیا جا رہا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ فنگس کا ذائقہ ختم کرنے کے لیے کیمیکل ذدہ فلیورز کا بھی استعمال کیا جا رہا تھا۔ڈی فوڈ فوڈ کے مطابق ویجیلنس ونگ نے سپلائی چین کی ریکی کر کے فیکٹری کا سراغ لگایا۔
فیکٹری میں اچار تیار کر کے مختلف برانڈز کے ناموں سے بڑے سٹورز پر فروخت کیا جاتا تھا۔
ڈی جی فوڈ نے انکشاف کیا کہ اچار بنانے والے معروف برانڈز کو بھی سپلائی کرنے کے شواہدبھی ملے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام گھر پر بنا اچار اور اشیاء کا استعمال کریں۔بظاہر تازہ نظر آنے والا اچار استعمال کے لیے مضر ثابت ہو سکتا ہے