باادب با نصیب

ساری زندگی کا وقت اپنے پاس ہے مگر اپنی اصلاح کے لیے بندہ کچھ بھی نہیں کر پاتا۔ہر کوئی اگر ٹھیک ہے تو غلطی کہاں پر ہے اگر غلطی سمجھ نہیں آتی تو علم و شعور کہاں ہے۔ اگر علم و شعور ہی نہیں تو حق کو کیسے پہچانیں گے اس لیے نفسا نفسی دنیا میں زیادہ ہے کہ سب جاہل ہیں اور علم والے خاموش ہیں اور ہمت کر کے غلطی ٹھیک نہیں کرنا چاہتے۔ اگر کوئی کرنا چاہتا ہے تو اس کا ساتھ نہیں دیا جاتا۔اس کارخانہ قدرت میں جس جس کو جو جو نعمتیں ملیں ادب ہی کی بنا پر ملی ہیں اور جو ادب سے محروم ہے حقیقتاً ایسا شخص ہر نعمت سے محروم ہے۔ شاید اسی لیے کسی دانش ور نے کہا تھا کہ، ’’ با ادب با نصیب اور بے ادب بد نصیب‘‘ غرض یہ کہ ادب ہی ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو ممتاز بناتی ہے۔ جس طرح ریت کے ذروں میں موتی اپنی چمک اور اہمیت نہیں کھوتا اسی طرح مؤدب شخص انسانوں کے جم غفیر میں اپنی شناخت کو قائم و دائم رکھتا ہے۔

اسلامی تاریخ کی روشنی میں یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ادب ہی کی بنا پر حضرت جبرئیل علیہ السلام ’’سیدالملائکہ‘‘ بنے اور بے ادبی کی وجہ سے معلم الملائکہ ’’شیطان‘‘ بنا۔ اس طرح کی کئی روایتیں اسلامی تاریخ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔اسلام کتنا پاکیزہ دین ہے جس نے ہر ایک رشتے کے حقوق وضاحت کے ساتھ بیان فرمادیے ہیں۔ہر رشتے میں چند ادب و آدابے کی تعلیم بھی دی گئی ہے۔ جس میں سرفہرست والدین کے حقوق اور ان کا ادب آتا ہے۔ مگر افسوس صدافسوس! آج بوڑھے ماں باپ کے ساتھ بچے جو کچھ کر تے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں۔ آج کے بچے والدین کو بات بات پر ڈانٹنے، جھڑکنے اور بلند آواز سے بات کرنے میں ذرہ برابر بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔ ماں باپ کسی چیز کے متعلق دو سے تین مرتبہ پوچھ لیں تو بھنویں تن جاتی ہیں مگر یہی بچہ بچپن میں والدین سے جب ہکلاتے ہوئے کسی چیز کو بار بار پوچھتا تو والدین خوشی خوشی بتاتے تھے۔ماں باپ کے آگے صرف دو وقت کی روٹی رکھ دینا ہی سب کچھ نہیں ہے بلکہ موت کی آخری ہچکی تک ان کا ادب بجا لانا انتہائی ضروری ہے۔

مگر آج مسجد و مدرسوں کی چوکھٹ پر، گلی محلوں میں بھیک مانگتے والدین ہر روز دیکھے جا سکتے ہیں۔ کوئی پیٹ بھرنے کے لیے ایک وقت کا کھانا دے دیتا ہے توکوئی جھڑک دیتا ہے۔لوگو! اسلام میں ایک عام ضعیف کی عزت وعظمت اتنی بلند و بالاہے تو والدین کا مقام و مرتبہ کس قدر بلند ہوگا۔ ’’تعلیم الاخلاق‘‘ میں ہے،’’ایک شخص نے اپنی ماں کو کندھے پر اْٹھا کر سات حج کرائے۔ ساتویں حج پر خیال آیا کہ شاید میں نے ماں کا حق ادا کر دیا‘‘۔ رات کو خواب میں دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا ک،: ’’جب تو بچہ تھا اور سردی سخت تھی۔ تو ماں کے پاس سو رہا تھا۔ تو نے پاخانہ کردیا۔ تیری ماں نے بستر اٹھا کر دھویا۔ غریبی کی وجہ سے دوسرا بستر نہ تھا۔ تیری ماں اسی گیلے بستر پر کڑکتی سردی میں لیٹ گئی اور تجھ کو رات بھر اپنے سینے پر لٹائے رکھا۔ تو کہتا ہے حق ادا ہو گیا۔ اے نادان! ابھی تواس ایک رات کا بھی حق ادا نہیں کر سکا۔

پس ہم میں سے جو کئی دنیا وآخرت کی بھلائی چاہتا ہے اسے چاہیے کہ والدین کے نہ صرف حقوق ادا کرے بلکہ ان کا ادب بھی ملحوظ خاطر رکھے۔ آج کے دور میں عموما اولاد کا رویہ والدین کے ساتھ نہایت ہی غلط ہے ۔ جب آج کل کے بچے والدین کو یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ آپ کو دنیا داری کی کیا سمجھ ہے؟ آپ کہاں اس دور کے تقاضوں سے واقف ہیں۔ جب کہ یہ وہی والدین ہوتے ہیں جو بچے کی بات بچپن میں بنا کہے جان جاتے ہیں اور یہی بچے بڑے ہوکر والدین کو بتاتے ہیں کہ چھوڑیں آپ کہاں سمجھیں گے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں اپنے والدین کے حقوق مکمل طور پر ادا کرنے چاہیے کیوں کہ یہی واحد ذریعہ ہے دنیا و آخرت میں کامیاب ہونے کا۔