عورتوں کا گاؤں جس میں مردوں کا داخلہ ممنوع

شام میں جنگ اور خون خرابے کے دوران حسکہ گورنری میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے سنہ 2015ء میں ایک ایسا گاؤں بنانے کا اعلان کیا جس میں صرف خواتین کو جانے، رہنے اور وہاں کام کاج کی اجازت ہو۔ اس گاؤں میں ان خواتین کو رکھا گیا جن کے شوہر جنگ میں مارے گئے اور ان کے بچوں کی کفالت ان بیواؤں کے کندھوں پر آ گئی۔

شمالی شام میں یوں انہوں‌ نے’روجافا‘ کے مقام پر “جینوار” کے نام سے ایک گاؤں بسایا۔ کُردش زبان میں اس کا مطلب”عورتوں کا وطن” ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دنیا کے اس عجیب وغریب گاؤں قیام 10 مارچ 2017ء کو عمل میں لایا گیا مگر اس کا باضابطہ افتتاح حال ہی میں پچیس نومبر کو خواتین پر تشدد کے خلاف عالمی دن کے موقع پر کیا گیا۔

اگرچہ یہ گاؤں کردوں ‌کے زیر انتظام ہے مگر اس میں آنے والی خواتین کے لیے قوم اور مذہب کی کوئی قید نہیں۔ وہاں پر تعمیر کردہ مکان اور گھر کچے ہیں۔ ان کی تعمیر میں زیادہ تر خواتین ہی نے حصہ لیا۔ مٹی اور گارے کے علاوہ درختوں کے تنوں سے ان کی دیواریں بنائی گئیں۔

اس علاقے کا انتظامی کنٹرول کرد پروٹیکشن یونٹس کے پاس ہے جسے عالمی اتحادی فوج کی معاونت حاصل ہے۔ اس قصبے میں خواتین کے رہنے کے لیے 30 گھر بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ اس میں بچیوں کا ایک پرائمری اسکول اور ایک ڈسپنسری بھی بنائی گئی ہے۔ ایک تھیٹر، ہوٹل، میوزیم، پارک اور سبزیوں کی کاشت کے لیے ایک فارم بھی بنایا جا رہا ہے۔ خواتین کی دودھ کی ضروریات کے لیے 200 بکریاں بھی موجود ہیں۔

 

یہاں مردوں کا داخلہ منع ہے۔ تاہم ایسے مرد جن کی قریبی خواتین رشتہ دار وہاں ہوں تو وہ ان سے ملاقات کے لیے جاسکتے ہیں، مگر انہیں وہاں پر قیام کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔